عثمان ہادی قتل کیس
بنگلہ دیشی نوجوان سیاسی رہنما شریف عثمان ہادی (Sharif Osman Hadi) کے قتل سے متعلق اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
واقعہ اور وفات: عثمان ہادی، جو تنظیم 'انقلاب منچ' کے ترجمان تھے، پر 12 دسمبر 2025 کو ڈھاکہ کے علاقے پلٹن میں اس وقت قاتلانہ حملہ ہوا جب وہ ایک رکشہ میں سوار تھے۔ ان کے سر میں گولی لگی تھی، جس کے بعد انہیں بہتر علاج کے لیے سنگاپور منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ 18 دسمبر 2025 کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
نمازِ جنازہ اور تدفین: ان کی نمازِ جنازہ 20 دسمبر 2025 کو ڈھاکہ یونیورسٹی کی مرکزی مسجد میں ادا کی گئی اور انہیں وہیں قومی شاعر قاضی نذر الاسلام کے مزار کے پہلو میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
تحقیقات اور گرفتاریاں: پولیس کے مطابق اب تک اس کیس میں 10 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ حملے میں استعمال ہونے والا موٹر سائیکل اور اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔
مرکزی ملزم: پولیس نے فیصل کریم مسعود کو مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔ ڈھاکہ کی عدالت نے ملزم کے ملک چھوڑنے پر پابندی عائد کر دی ہے، تاہم ابھی تک اس کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
ملک بھر میں احتجاج: عثمان ہادی کی وفات کی خبر ملتے ہی بنگلہ دیش کے مختلف شہروں بالخصوص ڈھاکہ میں شدید ہنگامے پھوٹ پڑے۔ مظاہرین نے بھارتی ہائی کمیشن کے گھیراؤ کی کوشش کی اور کچھ میڈیا دفاتر (جیسے 'پروتھوم آلو' اور 'دی ڈیلی اسٹار') پر حملے کیے گئے، جس کے باعث پورے ملک میں سیکورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے.
سیاسی اثرات: عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے۔ عثمان ہادی بھارت کے کڑے ناقد سمجھے جاتے تھے، اس لیے ان کے قتل کو سیاسی حلقوں میں بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات کے حوالے سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔
Comments
Post a Comment